تجوید قرآن اور
تجدید ایمان
#قرآن
ایک معجزہ ہے
ہم نے اس سے استفادہ کرنے میں کوتاہی کی ہے۔ قرآن کی آیات میں
مسائل کے حل بھی ہیں۔ دل جوئی کے لیے امید بھی۔ مقصد حیات کا تعین بھی اور راہ گزر
کی حکمت عملی بھی۔
حتی بغیر معنی تفسیر٭ سمجھے صرف عربی پڑھنے کے بھی حیرت انگیز اثرات ہیں
دماغ میں منتشر
خیالات کو یکجان
کر دیتا ہے۔نئی راہ دکھاتا ہے۔
اچھی قرآت سے قرآن سننا بے چینی سے پر سکون کر دیتا ہے اور بے خوابی
سے نیند کی آغوش میں پہنچا دیتا ہے۔
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ طالب علم کسی ایک علم کو زیادہ وقت دیتا ہے
اس میں ماہر ہو جاتا ہے یا اسکی باریکیوں سے زیادہ آشنا ہو جاتا ہے تو دوسرے کسی
اور علم کو کم تر اور حقیر خیال کرنے لگتا ہے۔
تفسیر پڑھنے والا تجوید کو حقیر خیال کرنے لگتا ہے۔ گویا اپنے علم کے
زعم میں فراموش کر دیتا ہے کہ
وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی ﴿ۙ۴۲﴾۴۲
۔ اور یہ کہ (منتہائے مقصود)
آپ کے رب کے پاس پہنچنا ہے
سورہ النجم۔
ویسے ہی جیسے کبھی علم کلام کا ماہر علم حدیث کو بے فائدہ یا کم تر
سمجھنے لگے۔
خدا نہ کرے کہ ہم علم تجوید سے
لاپرواہی و کوتاہی برتیں۔ اور کبھی ایسا وقت نہ آئے کہ
گویا یہ شعبہ بھی ہم اہلسنت برادران کے لیئے رکھ چھوڑیں۔ اور قرآن سے
ہمارا مطلب بس مناظرانہ نکات نکال نکال کے اگلوں کے منہ پہ دے مارنا رہ جائے۔
خدا نہ کرےکہ علم تجوید کے ماہرین سے ہمارا رویہ کسی طرح بھی تحقیر آمیز
یا کمتری کا ہو۔
خدا نہ کرے کہ دنیا کی بہترین کتاب سکھانے کے بدلے ہم یہ سمجھیں کہ
زبان کو گھومانا پھرانا ہی تو سکھانا ہوتا ہے
کونسا کمال ہے اس میں!۔ اور ویسے بھی یہ علم بس ہمارے مرنے پہ فاتحہ پڑھنے
کے سوا کونسا ہماری اولاد کے بنک بیلنس بنانے کا سبب بن جائے گا۔
جبکہ احادیث تو ہمیں بتاتی ہیں کہ
خَیْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ" (تم میں سے
بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے)
اسی طرح ائمہ کا طرزعمل قرآن
سکھانے والوں کے ساتھ کیا رہا؟
عبد الرحمن سلمی نے امام حسین علیہ السلام کے ایک بیٹے کو سورہ حمد کی
تعلیم دی، جب اس بیٹے نے امام حسین علیہ السلام کے سامنے اس سورہ کی قرائت کی، تو
(خوش ہوکر) استاد کو ایک ہزار دینار اور ہزار حلّے عطا کئیے اور ان کا ہاتھ نایاب
دُرّ سے بھر دیا، لوگوں نے ایک دن کی تعلیم کی وجہ سے اتنا کچھ عطا کرنے پر اعتراض
کیا تو آپؑ نے فرمایا:ا َیْنَ یَقَعُ ھٰذٰا مِنْ عَطٰائِہِ۔”(5)”جو کچھ میں نے اس
کو عطا کیا ہے اس کی عطا کے مقابلہ میں کہاں قرار پائے گا؟!”
5) مناقب، ج۴، ص۶۶؛ بحار الانوار، ۴۴، ص۱۹۰، باب۲۶، حدیث۳.
---------------
تجوید کے قواعد محض قرآن پڑھنا نہیں سکھاتے بلکہ یوں لگتا ہے کہ جیسے
زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی بتاتے ہوں۔
حروف مدہ٭
گویا کلام میں ٹھہرائو پیدا کرنا سکھاتا ہے۔ معجز نما قرآن کی تجوید
سکھاتی ہے۔ کس لفظ پہ کتنا رکنا اور کتنا بڑھنا ہے۔ ایسے تھوڑی ہے کہ جو منہ میں آئے نکال دیا
جائے۔ جذبات کی رو میں بہہ جایا جائے۔کس جذبے کو کونسا راستہ دینا ہے ۔ کسطرف لے
کر جانا ہے تاکہ ان (عج) تک پہنچ جائیں۔
زندگی بھی تو ایسے ہی ہے یہ سمجھ آ جائے کہ کہاں رکنا ہے اور کہاں سے
گزر جانا ہے تو کامیابی ۔ جیسے آیت صحیح ادا ہو گئی!
ذرا سی توجہ ادھر ادھر ہوئی اور وہیں ح کا مخرج ھ بن جائے گا گویا یاد
دلاتا ہوجونہی مقصد حیات فراموش کیا وہیں پھسل جائو گے میاں!
تفخیم٭ اور ترقیق٭
کی خوبصورتی جیسے یاد دلاتی ہو زندگی میں خیال رکھا جائے کب لہجہ دھیما
رکھنا ہے اور کب بھاری۔
مغرور و عاجز۔ متکبر و متواضع۔ ظالم و مظلوم سے ایک جیسی گفتگو تھوڑی
کی جاتی ہے۔ قلقلہ٭ کرنا یاد دلاتا ہے بعض اوقات زندگی میں
ایسے لمحات بھی آ جاتے ہیں جیسے جزم٭
پہ سکون کو بھی سکون نہیں ملتا۔ جو ان مشکل لمحات سے بآسانی گزر جائے وہ آنے والوں
کے لیے کتنی حسین راہ چھوڑ جاتا ہے۔ جیسے قاری بڑی خوبصورتی سے قطبجد٭ پہ قلقلہ کر کے حسن قرآت میں اضافہ
کر دیتا ہے۔
وقف لازم٭
ہے زندگی میں بھی۔ مشکلات سے جب سانس اکھڑنے لگے۔ ایسے میں لبوں کی
جنبش سے زیادہ سکوت باعث قرار ہے۔
یا تب بھی جب ایسا لگنے لگے کہ علم کے پیچھے بھاگتے تزکیہ اور بھی پیچھے
چھوڑ دیا ہے تو وقف کر لیں۔ ٹھر جائیں ۔ یہاں تک کہ دونوں ساتھ آ ملیں۔
تقویٰ اور تزکیہ پہ کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ اگر ایسا محسوس ہونے
لگے تو علم پہ وقف لازم کر دیجئے۔
"تزکیہ نہ ہو تو عین ممکن ہے کہ علم انسان کو
جہنم پہنچا دے۔۔" (استفادہ از تقریر آیت اللہ خمینی
تقریر کا لنک
اسی طرح زبان کی حد بھی مقرر کی جائے۔ قرآن نے ازواج پیغمبر کے ساتھ
سبکو تنبیہ کر دی۔
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ
اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ
مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾
اے زنانِ پیغمبر تم اگر تقویٰ اختیار
کرو تو تمہارا مرتبہ کسی عام عورت جیسا نہیں ہے لہٰذا کسی آدمی سے لگی لپٹی بات نہ
کرنا کہ جس کے دل میں بیماری ہو اسے لالچ پیدا ہوجائے اور ہمیشہ نیک باتیں کیا کرو.
سورہ الاحزاب 33:32
کراما کاتبین صرف اعمال نہیں لکھتے بلکہ اعمال سے ہونے والے اثرات بھی
لکھتے ہیں۔
. اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ نَکۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ
اٰثَارَہُمۡ ؕؑ وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ فِیۡۤ اِمَامٍ مُّبِیۡنٍ﴿٪۱۲﴾
۱۲۔ ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں
اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے ہیں اور جو آثار پیچھے چھوڑ جاتے ہیں سب کو ہم لکھتے ہیں
اور ہر چیز کو ہم نے ایک امام مبین میں جمع کر دیا ہے۔
سورۂ یس
گفتگو کا فن یہ ہے کہ سامع تک الفاظ پہنچاننے کے ساتھ ساتھ اسکے اثرات
پہ بھی نظر ہو۔کونسا لفظ سامع پہ کیا اثر چھوڑے گا
زبر کے بعد خالی الف آ جائے
تو عربی لہجے میں
الف کو تو لمبا کرتے ہیں۔ لیکن
انا کے الف کو لمبا نہیں کرنا ہوتا۔
گویا اس میں بھی
خدا کی طرف سے پیغام ہو کہ اپنی انا کو کنڑول میں رکھیں۔ یہ 'میں' یہ 'انا' ہی تو
ہوتی ہے۔ جو انسان اور خدا کے درمیان حجاب بن جاتی ہے۔ اور انسانوں کے بیچ آ جائے
تو رشتے کھا جاتی ہے۔
لیکن یہی الف
جب تشدید یا جزم کے ساتھ اگلے لفظ سے مل جائے تو تجوید کا قانون بدل جاتا ہے۔
جیسے انفرادی
عبادت اور اجتماعی عبادت کا فرق ہو۔ یا یوں کہیے کہ ایک اکیلا اور دو گیارہ۔
وہی جو انفرادی کوشش
individual effort اور
اجتماعی کام
Collaborative team work
کا فرق ہوتا
ہے۔
کہیں خدا کو
انفرادی عبادت کا اخلاص پسند ہے اور کہیں اجتماعی عبادت کی ریاضت۔
نون ساکن اور تنوین پہ ویسے تو اخفاء٭ کرنا ہوتا ہے مگر اگر حروف حلقی (ء ھ، ع ح، غ خ) میں سے کوئی حرف آ جائے تو اظہار٭ کرنا ہوتا ہے۔ حروف حلقی اردو بولنے والوں کے لیے عام طور پہ مشکل ہوتے ہیں۔ سب کے سب حلق ہی کے مختلف حصوں سے ادا ہوتے ہیں۔ مگریہ قاعدہ گویا دلاتا ہے کہ جیسے زندگی میں مشکل کے ساتھ آسانی کی مثال ہو۔ اسی طرح ایک نسبتا مشکل مخرج (حروف حلقی) کے ساتھ نسبتا آسان (اخفاء کے مقابلے میں آسان) قاعدہ اظہار ہے۔
خدا ہمیں قرآن و اہلبیت علیھم السلام سے ہمیشہ متمسک رکھے۔
السلام علیک یا شریک القرآن
#العجل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭بغیر معنی تفسیر ۔(یہاں ایسا
ہرگز نہ سمجھا جائے کہ قرآن کو سمھجے بغیر پڑھنے کی تشویق دلائی جا رہی ہے)
حروف مدہ٭
تجوید میں حروفِ مدہ تین ہیں: الف (ا)، واؤ (و)، اور یاء (ی)۔ ان حروف
کو 2 حرکات (ایک الف) کے برابر کھینچ کر پڑھا جاتا ہے۔ ان کی پہچان یہ ہے: الف سے
پہلے زبر (
)، واؤ ساکن سے پہلے پیش (
)، اور یاء ساکن سے پہلے زیر (
) ہو۔ ان کے بعد اگر وقف ہو تو 4 حرکات تک لمبا کیا جا سکتا ہے۔
حروفِ مدہ کی تفصیل:
- الف مدہ (ا): الف ساکن ہو اور اس سے پہلے
والے حرف پر زبر ہو (جیسے: بَا)۔
- واؤ مدہ (و): واؤ ساکن ہو اور اس سے پہلے
والے حرف پر پیش ہو (جیسے: بُوْ)۔
- یاء مدہ (ی): یاء ساکن ہو اور اس سے پہلے
والے حرف پر زیر ہو (جیسے: بِيْ)۔
ادائیگی کا طریقہ:
ان حروف کو لمبا کرنے کو مد کہتے ہیں۔ اگر حروف مدہ کے بعد ہمزہ نہ ہو
تو اسے مد طبعی کہتے ہیں اور اسے دو حرکات یعنی ایک الف کی
مقدار کھینچتے ہیں۔
فرق:
حروفِ مدہ کو لمبا کیا جاتا ہے (2 حرکات) جبکہ حروفِ لین (واؤ یا یاء
ساکن سے پہلے زبر) کو نرمی سے بغیر لمبا کیے پڑھا جاتا ہے۔
تفخیم٭
تجوید میں تفخیم (Tafkheem) کا مطلب حروف کو موٹا، پر
(Bold/Thick) اور بھاری آواز کے ساتھ ادا کرنا ہے، جس سے منہ بھر جاتا ہے۔ یہ مخصوص
حروف (جیسے خص، ضغط، قظ) اور اللہ کے نام کے لام پر زبر یا پیش ہونے کی صورت میں
لاگو ہوتی ہے، جبکہ 'ترقیق' (باریک پڑھنا) اس کے برعکس ہے۔
تفخیم کی تفصیلات:
- معنی: بڑا کرنا،
تعظیم کرنا، یا حروف کو پر پڑھنا۔
- حروفِ مستعلیہ (مستقل موٹے): خ، ص، ض،
ط، ظ، غ، ق (یہ ہمیشہ تفخیم کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں)۔
- لفظِ اللہ (لام) کی تفخیم: اگر لفظ
اللہ (اللّٰہ) یا اللّٰھم سے پہلے زبر (فتحہ) یا پیش (ضمہ) ہو تو لام کو موٹا
پڑھا جاتا ہے (مثال: نَرَى اللّـٰهَ، رَسُوْلُ اللہِ)۔
- راء (ر) کی تفخیم: جب راء پر
زبر یا پیش ہو، یا راء ساکن ہو اور اس سے پہلے زبر یا پیش ہو۔
- الف (ا) کی تفخیم: الف اپنے
ماقبل (پہلے) حرف کے تابع ہوتا ہے؛ اگر پہلے حرف پر تفخیم ہو تو الف بھی موٹا
پڑھا جائے گا (مثال: خَالِـدُوْنَ)۔
یہ قاعدہ قرآن کریم کی صحیح تلاوت (تجوید) کے لیے نہایت اہم ہے۔
ترقیق٭
ترقیق کے معنی ھیں حرف کو ھلکا بنا کر ادا کرنا
۔ یا باریک ادا کرنا۔ جیسے ر پہ زیر آنے کی صورت میں ر کو باریک پڑھا جائے گا۔
قطبجد٭
قلقلہ٭
مطابقِ اردو لغت تجوید کی اصطلاح میں قلقلہ کے
معنی جنبش یا لرزش کے ہیں ۔ جب حروفِ قلقلہ ساکن ہوں، تو انہیں اس طرح ادا
کیا جاتا ہے کہ آواز مخرج سے ٹکرا کر واپس آئے اور ایک قسم کی گونج پیدا
ہو۔
حروفِ قلقلہ پانچ ہیں، جن کا مجموعہ "قُطْبُ جَدٍّ" ہے:
۱. ق (قاف)
۲. ط (طا)
۳. ب (با)
۴. ج (جیم)
۵. د (دال)
وقف لازم٭
وقف لازم (علامت: م) تجوید و قرات
قرآن میں وہ مقام ہے جہاں ٹھہرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا مقصد
معنیٰ کے فساد یا تغیر کو روکنا ہے۔ اگر یہاں وقف نہ کیا جائے تو جملے کے مفہوم
میں ایسی خرابی پیدا ہو سکتی ہے جو اللہ کی مراد کے خلاف ہو۔ قرآن مجید میں یہ
علامت تقریبا 82 سے 85 مقامات پر آئی ہے۔
اخفاء٭
قرآن مجید کی تلاوت میں نون ساکن
یا تنوین کے بعد اگر حروفِ اخفاء (ت، ث، ج، د، ذ، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ف، ق،
ک) میں سے کوئی حرف آ جائے، تو وہاں آواز کو ناک میں چھپا کر پڑھا جاتا ہے۔ اسے اخفاء
حقیقی کہتے ہیں-
اظہار٭
«اظہار» تجوید کا ایک بنیادی قاعدہ ہے جس کا
لغوی معنی واضح کرنا یا ظاہر کرنا ہے۔
تکنیکی تعریف:
جب نون ساکن (نْ) یا تنوین (ً ٍ ٌ) کے بعد حروفِ حلقی میں
سے کوئی حرف آ جائے، تو وہاں غنہ کیے بغیر نون کی آواز کو صاف اور واضح طور پر
پڑھا جاتا ہے۔
حروفِ حلقی (اظہار کے حروف):
یہ کل چھ حروف ہیں جو حلق سے ادا ہوتے ہیں:
ء (ہمزہ)، ہ، ع، ح، غ، خ ۔
English Version (Benefitted from ChatGpt)
Tajwīd of the Qur’an and Renewal of Faith
The #Quran is a miracle.
We have fallen short in benefiting from it. Within the verses of the Qur’an lie solutions to problems, hope for wounded hearts, determination of the purpose of life, and guidance for the path ahead.
Even without understanding the meanings or tafsīr, merely reciting the Qur’an in Arabic has astonishing effects. It gathers scattered thoughts of the mind into unity and shows a new direction. Listening to the Qur’an recited beautifully brings tranquility to restlessness and carries insomnia into the embrace of sleep.
At times, a student devotes excessive time to one discipline, becomes proficient in it, and grows deeply familiar with its subtleties—only to begin considering other sciences inferior or insignificant. One who studies tafsīr may start viewing Tajwīd as trivial, forgetting in the pride of knowledge:
> *“And indeed, to your Lord is the final return.”*
> (Surah al-Najm 53:42)
Just as sometimes a scholar of theology may begin to see Hadith as unnecessary or secondary.
God forbid that we show negligence or indifference toward the science of Tajwīd. And may it never happen that we treat this field as something reserved only for our Ahl-e-Sunnat brethren, while our own engagement with the Qur’an is reduced merely to extracting polemical arguments to throw at others.
God forbid that our attitude toward the scholars of Tajwīd becomes condescending or dismissive. God forbid that, in exchange for teaching the greatest Book in the world, we reduce their work to “just teaching how to move the tongue—what achievement is that?” Or think that this knowledge will not contribute to our children’s bank balances, except perhaps to recite Fātiḥah after our death.
Whereas the Hadith clearly states:
> *“The best among you are those who learn the Qur’an and teach it.”*
Likewise, observe the conduct of the Imams toward those who taught the Qur’an.
ʿAbd al-Raḥmān al-Sulamī taught Surah al-Fātiḥah to one of Imam Ḥusayn’s sons. When the child recited it before Imam Ḥusayn, the Imam—overjoyed—gifted the teacher one thousand dinars, a thousand garments, and filled his hands with rare pearls. When people objected to such generosity for just one day of teaching, the Imam replied:
> *“How can this compare to the worth of what he has given?”*
(Manāqib, vol. 4, p. 66; Biḥār al-Anwār, vol. 44, p. 190, ch. 26, hadith 3)
---
*Tajwīd as a Way of Living*
The rules of Tajwīd do not merely teach how to recite the Qur’an; they seem to teach how to live life itself.
The *letters of elongation (ḥurūf al-madd)* teach composure in speech. Tajwīd of the miraculous Qur’an teaches where to pause and where to extend—this is not a matter of uttering whatever comes to the mouth or being swept away by emotion. It teaches which emotion deserves which path, and in which direction it should be guided, so that one may reach the guiding Imam (ʿaj).
Life is exactly like this: understanding where to pause and where to move forward leads to success—just as a verse is correctly recited.
A slight lapse in attention, and the *makhraj* of *ḥaāhʾ* ح becomes *hāaʾ* ھ—as if reminding us that the moment the purpose of life is forgotten, one begins to slip.
The beauty of *tafkhīm* and *tarqīq* reminds us that in life, too, we must know when to soften our tone and when to make it firm. One cannot speak in the same manner to the arrogant and the humble, the tyrant and the oppressed.
*Qalqalah* reminds us that there are moments in life when even stillness (jazm) finds no rest. One who passes through such difficult moments gracefully leaves behind a beautiful path for those who follow—just as a skilled reciter enhances the beauty of recitation by performing qalqalah correctly on the letters of Qutb-Jadd.
There is *waqf lāzim* in life as well. When hardships leave one breathless, silence can be more soothing than speech. Or when it feels that in chasing knowledge we have left purification (tazkiyah) far behind, we should pause—stop—until both walk together again.
Never compromise on taqwā and tazkiyah. If such a compromise seems imminent, place a waqf lāzim on knowledge itself.
> *“Without purification, knowledge can very well lead a person to Hell.”*
> (Adapted from a speech by Ayatollah Khomeini)
*Intent, Expression, and Impact*
Intention alone is not sufficient; the effect of words on the listener also matters. If *ṣād* ص is pronounced as *sīn س, if the softness of **sīn* س turns into the heaviness of *ṣād, ص or if the tongue exceeds its boundary and transforms **s*س or *ṣ* into *sawʾث*, the listener is deprived of the full right of the word. Arabic listener will be confused about what was the actual word. Tajwīd teaches us to deliver words faithfully to the listener.
Similarly, limits must be set on speech itself. The Qur’an even cautions the wives of the Prophet ﷺ:
> *“…O Consorts of the Prophet! Ye are not like any of the (other) women: if ye do fear (Allah), be not too complacent of speech, lest one in whose heart is a disease should be moved with desire: but speak ye a speech (that is) just. (Translation Yusuf Ali)
> (Surah al-Aḥzāb 33:32)
The noble scribes (Kirāman Kātibīn) record not only deeds, but also their effects:
> *“Indeed, We give life to the dead, and We record what they have sent ahead and their آثار (effects/traces).”*
> (Surah Yā-Sīn 36:12)
The art of communication lies not only in conveying words, but in being mindful of their impact on the listener.
---
### *Subtle Lessons from Tajwīd Rules*
When a *fatḥah* is followed by a bare *alif, the alif is elongated in Arabic pronunciation. But the alif of *“anā” (I)** is not elongated—as if God Himself is reminding us to keep our ego under control. This “I” / ego becomes a veil between the servant and God, and when it enters human relationships, it devours them.
Yet when this same alif connects to the next word with *shaddah* or *jazm*, the rule of Tajwīd changes—like the difference between individual and collective worship. One alone is one; together, two become eleven. Sometimes God loves the sincerity of individual worship; sometimes the discipline of collective worship.
With *nūn sākinah* and *tanwīn, the rule is **ikhfāʾ, but if a **ḥalqī letter* appears, the rule changes to *iẓhār*. Though ḥalqī letters are difficult for Urdu speakers, they come with an easier rule—reminding us of like, indeed, with hardship comes ease.
### *Closing Prayer*
May Allah keep us firmly attached to the Qur’an and the Ahl al-Bayt (peace be upon them).
Peace be upon you, O companion of the Qur’an.
#al-ʿajal
_____________________________________________________________________________
*Appendix: Technical Notes on Tajwīd Terms*
(Translated faithfully from the original footnotes; preserved for academic clarity)
* *Reading without meaning/tafsīr: This does *not encourage recitation without understanding; rather, it highlights the inherent spiritual effect of Qur’anic recitation.
* *Ḥurūf al-Madd*: Alif, Wāw, Yāʾ—elongated two counts (one alif) under specific conditions.
* *Tafkhīm*: Pronouncing letters with heaviness/boldness (e.g., خ ص ض ط ظ غ ق).
* *Tarqīq*: Pronouncing letters lightly/thinly.
* *Qalqalah*: Echoing sound produced by five letters (ق ط ب ج د) when sākin.
* *Waqf Lāzim*: A mandatory stop to prevent distortion of meaning.
* *Ikhfāʾ*: Nasal concealment of nūn sākin/tanwīn before 15 letters.
* *Iẓhār*: Clear pronunciation before the six throat letters (ء ه ع ح غ خ).
_____________________________________________________________________________